چنتامنی:16 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)ہر بچہ ذہین ہوتا ہے اس کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی کرنا تمام اساتذہ کا فریضہ ہے یہ بات شی دھرمستالہ سنگھا کے ڈائرکٹر رادھاکرشناراؤ نے کہی آج تعلقہ کے کیوار سرکاری اسکول کے طلباء طالبات کو بیٹھنے کے لئے ڈیکس تقسیم کرنے بعد منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استاد کا پیشہ مقدس پیشہ ہے ملک کی اصلی ترقی صرف اساتذہ سے ہی ممکن ہے اساتذہ کی معیار بہتر رہنے سے سماج کی ترقی یافتہ ہوگا لوگوں میں جیسے جیسے جانکاری بڑھے گی ایسے ہی وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اس سے سماج کی ترقی ہوسکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ علم ایک ایسی دولت ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا اپنے اندر پنہاں ں علم کو اگر دوسروں تک پہنچائیں تو اور اضافہ ہوتا ہے انہوں نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت یہی چاہتی ہے کہ اپنے ملک میں کسی بھی طرح سے ہر بچہ تعلیم یافتہ ہواسی لئے سرکاری اسکولوں میں کتابیں یونیفارم ،موزے اور جوتے ،دوپہر کا کھانا دودھ مفت میں دئے جارہے ہیں اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبات کو اسکالرشپ اور عہدوں کیلئے ریزرویشن بھی رکھا گیا ہے علم ایک ایسی انمول شئی ہے جو زبردستی سے حاصل نہیں ہوتی اسی طرح سے انہوں نے کہا کہ انسان کی عظمت وبزرگی بھی علم کی وجہ سے ہی ہے نہ کہ دولت وثروت کے سبب ۔ کیوار گرام پنچایتی کی صدر شیلاجی منجوناتھ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علم حاصل کرنا ہر ایک بچے کے لئے لازم ایک زمانہ تھاکہ علم چند گنے چنے افرادتک ہی محدود تھا لیکن آج نہ وہ زمانہ رہا اور نہ ہی علم پر کسی ایک طبقے یا فرقے کی اجاراداری ہے جس طرح دنیا ترقی کرتے گئے اس بات سے کسی کا انکار نہیں ہے علم ہی ترقی کا زینہ ہے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں علم سے محروم بدبختی کی نشانی ہے ۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بچے مستقبل کے معمارہوتے ہیں یعنی انہیں بچوں کے کندھوں پر آنے والے کل کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں عموماََہر والدین کی چاہ ہوتی ہے کہ ان کا بچہ بڑاہوکر بڑاآدمی بنے والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجنئیر ،سائنسدان ،یا اونچے عہدے پر فائز آفیسر بنانا چاہتے ہیں ہر والدین بچوں کے بہتر اور اچھے مستقبل کے خواہاں ہوتے ہیں اپنے نونہالوں کے لئے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا ہے اسکے لئے والدین کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے بچوں کی صحیح رہنمائی کریں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بچے اسکول میں حاصل کردہ سبق کو دوسرے دن یاد نہیں رکھ پاتے ہیں اس کے لئے بچے نہیں بلکہ والدین ذمہ دار ہوتے ہیں وہ اس لئے کہ جب بچہ اسکول سے گھر جاتا ہے تو والدین بچے سے اتنے مانوس ہوجاتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ بچے کو اسکول سبق یاد دلایا ۔
شیلاجی نے کہا کہ جس طرح علم انسان کو حسن اخلاق سکھاتا ہے اسی طرح ہنر مندی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اگر کوئی بچہ ان دونوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف اچھا شہری بننے گا بلکہ اپنے ملک نام روشن کرنے میں کسی بھی قسم کی کسر باقی نہیں رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے حد مقرر کرنے کی بجائے طلبہ کو چاہئے کہ وہ تعلیم کو محدود تصور نہ کریں کیونکہ علم حاصل کرنے کے لئے حد مقرر کرنا بے قوفی کی دلیل ہے طالب علم حد نہیں بلکہ مقصد کو آگے رکھ کر تعلیم حاصل کرے ۔اس موقع پر گرام پنچایتی رُکن منجوناتھ ہیڈ ماسٹرس گیری جما ہیڈ ماسٹر شیو ریڈی چندرہ شیکھر کے این شرنیواس اپا سی۔آر۔شیوشنکر کے۔شری نات عائشہ خانم لکشمی سمیت کئی ٹیچرس وغیرہ موجود رہے ۔